Qaafiya Bazm-e-Adab

Jahaan ke saare pahad aur patthar use pukarein, use pukarein

Adnan Akhtar Azmi

جہاں کے سارے پہاڑ و پتھر اسے پکاریں اسے پکاریں
یہ آبشار و ندی سمندر اسے پکاریں اسے پکاریں

ہم اپنی دشوار رہ گزر پر اسے پکاریں اسے پکاریں
وہی ہے منزل وہی ہے رہبر اسے پکاریں اسے پکاریں

وہ سب کا والی بزرگ و برتر اسے پکاریں اسے پکاریں
دلوں کی گہرائی میں اتر کر اسے پکاریں اسے پکاریں

وہ رزق دیتا ہے ہر کسی کو وہ رزق دینا بھی چاہتا ہے
زمیں کے اندر زمیں کے باہر اسے پکاریں اسے پکاریں

وہی ہے داتا وہی سہارا وہی ہے مشکل کشا ہمارا
ہم اور تم کی حدیں مٹا کر اسے پکاریں اسے پکاریں

وہ چاند تارے درخت و صحرا چمن کے گل اور چمن کا بھورا
ہماری آنکھوں کے سارے منظر اسے پکاریں اسے پکاریں

یہ آسماں کے پرند سارے یہ جنگلوں کے چرند سارے
منڈیر پر ہیں جو یہ کبوتر اسے پکاریں اسے پکاریں

خوشی میں عدنان یاد رکھئے خدا کو اپنے خدا کو اپنے
کبھی جو غم کا ہو سر پہ لشکر اسے پکاریں اسے پکاریں

🔗 Link copied!