فقط رب سے محبّت ہے یہی اظہار کرنا ہے
یزیدِ وقت کی بیعت سے اب انکار کرنا ہے
وه جس نے بھی ہماری زندگی مشکل میں ڈالی ہے
انہیں کی زندگی کو اب ہمیں دشوار کرنا ہے
کبھی ڈرنا نہیں ہے ہم کو ظالم کے اصولوں سے
کہ ظالم جس سے روکے گا وہی ہر بار کرنا ہے
عزیزِ من، رفیقِ جاں ، سکونِ دل سبھی تم ہو
دلِ مضطر کو اب اس بات کا اقرار کرنا ہے
کہ ہم کو دیکھ کر کلمہ پڑھے اغیار اک پل میں
ہمیں ایسا ہی اپنا منفرد کردار کرنا ہے
جگایا ہے کئی لوگوں کو ہم نے خوابِ غفلت سے
جو باقی ہے انہیں بھی اب ہمیں بیدارکرنا ہے
یہ ساحل کے سکوں سے لطف تم نے لے لیا ہو تو
اٹھو اب چل پڑو ! ہم کو سمندر پار کرنا ہے
مجھے اس کی نگاہوں نے کہا ہے یہ خموشی سے
صدف میں قید موتی کا مجھے دیدار کرنا ہے