Qaafiya Bazm-e-Adab

Dikhta Hoon Saada Magar Tez Nazar Rakhta Hoon

Shoeb Amir

دِکھتا ہوں سادہ مگر تیز نظر رکھتا ہوں
سننے کے ساتھ میں کہنے کا ہنر رکھتا ہوں

ہر کسی فرد کے دل میں میں اتر جا تا ہوں
ہر کسی دل میں لگا کر میں یہ ڈر رکھتا ہوں

کود پڑتا نہیں ہوں میں کسی بھی آتش میں
میں محبت کے مطابق ہی جگر رکھتا ہوں

دکھ میں بھی جانتا ہوں پیڑوں کے کٹنے کا یہ
آںگن میں گھر کے میں بھی ایک شجر رکھتا ہوں

مجھکو کیا واسطہ ہے دنیا کے شور و غُل سے
اپنے اندر میں خیالوں کا نگر رکھتا ہوں

کہتا دشمن سے ہے یہ وقت کا ظالم خنجر
دھیما لیکن میں بہت گہرا اثر رکھتا ہوں

ہوں فرشتوں سے بھی افضل میں اسی دنیا میں
میں خطاؤں سے ہٹا کر یہ نظر رکھتا ہوں

تم کو لگتا ہے میں انجان ہوں ہر ہونی سے
تم نہیں جانتے میں سب کی خبر رکھتا ہوں

اس کو لگتا ہے یہ عامِر کہ بھُلا بیٹھا ہوں
میں بھی صورت ذرا ویسی بنا کر رکھتا ہوں

🔗 Link copied!