تمہارے اجداد کی نشانی نہیں چلے گی
ہماری محفل میں بدزبانی نہیں چلے گی
یہاں پہ جو تم سنا رہے ہو ، نیا سناؤ
پرانے شعراء کی ترجمانی نہیں چلے گی
کسی بھی تعلیم یافتہ کو بناؤ رہبر
یہاں پہ جاہل کی حکمرانی نہیں چلے گی
سکھا رہے ہیں جو اپنی بیٹی کو دنیاداری
وه کہہ رہے ہیں بہو سیانی نہیں چلے گی
یہ گاؤں وه ہے جہاں پہ سچّےہیں لوگ سارے
یہاں پہ جاناں یہ بے ایمانی نہیں چلے گی
ہمارے آنے سے خوش نہیں تو بتا دو ہم کو
محض دکھاوے کی میزبانی نہیں چلے گی
یہاں نہ جاؤ ، وہاں نہ جاؤ ، یہ چھوڑ دو اب
صدف کے دل پہ یہ حکمرانی نہیں چلے گی