گہری یادوں کے باغباں ہوگے
تم میسر مجھے وہاں ہوگے
تم نے بھی کہہ دیا رقیبوں سے
ہم سمجھتے تھے رازداں ہو گے
کیوں ابھی زندگی سے ہارا تو
اور بھی تیری امتحاں ہوگے
مل نہیں پائی ہے جنھیں منزل
کچھ تو ایسے بھی کارواں ہوگے
بددعا عرش تک گئی میری
تم یہ سمجھے کہ بے زباں ہوگے
یاد رکھے گی نسلِ نو جن کو
عہدِ نو کے وہ نوجواں ہوگے
جب کہ معلوم دل میں ہے پھر بھی
پوچھتے ہے صدف کہاں ہوگے