Qaafiya Bazm-e-Adab

gehri yaadon ke baghaban hoge

Zaureen Sadaf

گہری یادوں کے باغباں ہوگے
تم میسر مجھے وہاں ہوگے

تم نے بھی کہہ دیا رقیبوں سے
ہم سمجھتے تھے رازداں ہو گے

کیوں ابھی زندگی سے ہارا تو
اور بھی تیری امتحاں ہوگے

مل نہیں پائی ہے جنھیں منزل
کچھ تو ایسے بھی کارواں ہوگے

بددعا عرش تک گئی میری
تم یہ سمجھے کہ بے زباں ہوگے

یاد رکھے گی نسلِ نو جن کو
عہدِ نو کے وہ نوجواں ہوگے

جب کہ معلوم دل میں ہے پھر بھی
پوچھتے ہے صدف کہاں ہوگے

🔗 Link copied!