Qaafiya Bazm-e-Adab

مختصر تھا سفر، اور طویل ایک کہانی تھی
اُس کی باتیں تھیں، یادوں کی بھی سرگردانی تھی۔
جل کر شمع نے کر دیا تھا اُجالا ہر طرف،
چمک تھی، لو تھی، ہوا کی پاسبانی تھی۔

کیا گزری اُس پر مت پوچھ اے ہم دم،
وحشت کا عالم تھا، عجب سی بے قراری تھی۔
رویا نہیں تھا وہ بھی مدتوں سے اتنا،
لہو بہ رہا تھا آنکھوں سے، مسلسل روانی تھی۔

بال نوچ کر چوڑیاں توڑ لی اُس نے،
یہ کہانی اُس کو آخر سب کو سنانی تھی۔

عینک، قلم، کتاب سب کچھ تھا جوں کا توں،
کمرے میں اُس کی خوشبو کی ایک صرصری سی تھی۔
پاگل کہہ رہا تھا کوئی، دیوانہ سمجھ رہا تھا،
آنکھوں میں اُس کی بجلی تھی، ایک حیرانی بھی تھی۔

ظالم جہاں کے پاس تنہا چھوڑ کر،
وہ گم ہو گیا اچانک، سارے وعدوں کو توڑ کر،
وہ بھی زندہ لاش بن کر رہ گئی،
ساری قسمیں دھری کی دھری رہ گئیں۔

کچھ رنگ بھرے تھے اُس نے اُس کے ساتھ مل کر،
کچھ خواب بُنے تھے اُس نے اُس کے ساتھ مل کر۔
آنکھ کھلی تو وہ خواب نہ رہے،
وہ گلشن نہیں رہا، وہ رنگ نہ رہے،
جن کندھوں کے سہارے دیکھے تھے خواب سارے،
وہ کندھے نہیں رہے، وہ سہارے نہ رہے۔

 

عجب کہ خبر اس حادثے کی
ایک اجنبی کی زبانی ملی،
میرا آنا جانا تھا،
ہاں، پہچان بھی پرانی تھی۔
عامر تیرے جتن سے کچھ بھی نہیں ہوا،
یہ اب بھی کہانی ہے، یہ تب بھی کہانی تھی۔

🔗 Link copied!